|0۹۵ 20٦30131211
1٦005 ://3٥ ۱۱۱۸ اذ۱۰55٥۹5500٥ء٥٥٥/
2 صحھةهھ آ ککھھ لا صحکک تا
|2 ۸22
کک نر سا۲ نیش اہداوی رفوی
جاطامہ مو حافظ ان سر لہ شا( بھاہ پور )
ج7
امام
جناب علامہ عطاء الرسول لی صاحب
5 ۳ءء ون رج کی .
- ))۴( ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ا ۹/۵0101 11
1٦۷05 ://63۷۱۱۱۱۹3 ما ا٥۹٥5م0 0٠۷۳۸ ۰/
جمله حقوق محفوظ
ا ماب : “یے عمل پیر اور جاہل مرید۔ مسیق -.: کک ار مہ مناظر اسلام تحضرت علامہ
عقتی عائظ خر فیض احتمد اویسی رضوی ساب پاا جخمام : جناب لام عطاء الرسول اویسی ماب نار قحلب مد ینه پبلشر زکھارادرکر اتی
بن 320-4027536ن: امباعمت جد یر : گان ا لحم نتر ہ ریو
عامت م, صعات گی
بت : گر رہاے
کھپوزیکل : عمیرقادر یگیونگ 603734 ٢٭ ملئے کا یته ٭
تہ فوشہ فیضانع رید ه رکز زی ہنی نمرا کرای ون 4943368
تہ الد یہ فغان دیع م رکز منری منڑ یشید حر کھارفو رکر اتی 2314045
۳ ۔ گرب ا 7 ۔ تہ کیہ رضوبہ لب ائ ٹکار نر ؛سنری منڑڈی اکرائی۔
۵ ضاء الد ین پلشرز شید سد کھاراو دکر ای فوع 203918
تہ رضوب مگاڑی احاطہ' آرام با کرای ون 2637897
کت الصر گی چچھوئی گئی حید رآاوخرم ون 641926
۸۔ جدپی کیٹ اوس م کر وی درا ما رٹ ض روڈ لا ہو / ۹۔ ل٣ی کب خانہ ع رکز اوس درارمارکیٹ گ نشی روڈلاہور *ا۔ کہ قاددی درپار ما رکیٹ ٹن مع روڈ لاہور
ا۔ در یکب عانہ ۹۰ سیھٹی پازوطلامہ اقال چوک اللوٹ فو: ۹91008
٣ا ۔ کہ میانہ بوھ بازار رفولپنی ٹن 552781
ےچ
-
: : کا ں۲ ۰ - ۲٦ : ہا و ! وی سے وت
٠ - ))۴۴۲۱۷۹۹ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا1٦05: //603 ۷۱۱۱۹ 5م ٥۹٥۰٥50٥0٥/
نمبرشمار مضمون صفحه نمبر ۱ ایِد ١ ا جو خلافب حر کام گکرے و پچ ٦ی کادوبادکی ے ٢ 2 نکابت با یبط لد ک رہ ٣ ْ ۳ عمر یس لو یی ۲ ۵ ری اہ ہہول ْ ٦ وارف رد یکا ٹملہ ۔ 2 سای ول شزاہ صاحب رحمتہ الد علیہ ۸ ۸ مکاحبت اہ ۱ ٠ ۹ ج و رکی علاصت 1 و ری جال مر 1 1 ڈھ پچ رک کی 1 ۴ ری م رید صروری فو ك۳ بے چ رکا پر خعطان ٤ 7 اغتام ۱ ةً ٥۵ ش رانا مرش رکال 4 ھ عالم ہو ۰7 ے - کچ ۸ مرش رک و آز ماج نی چا ہے ۵ ۹ طف ٣۳۴ك۴۳٣۳ 7 حر سے بر طوئی رح انقہ طب ک یکر امت ہم ہہ اس ث٠ تے 6۲ل تقورب
ے--۔٭5 سا ھ
- ))))۴۰۰۰ 6 ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[/۵011 231
1٦005 ://3٥ ۱۱۱۱۱۹ ما ۱۰ا٥۹ 0٠ء0٥٥
سے 7 ۳7 ۱ ۱ : ىک
آلمد
رد دونشکی کی 1 اما بعد ! الات کا لک ای ۸۹۰ فصمد پیر مری۸د کی > چل راے من افسو ںکہ ہمارے معاشرے یں چرکی عم ربیدی غللط عم یقہ اتقیا رک رگئی سے اکر پر نخرات 2 و کل سے فارغ ہوتے ہیں اور بد رگن الام کے شخیل ان کے اکر مرید دنیادلد بھی ہیںء ای لیے ہ اپکی چیک ححالی کن کے لیے مزیدکو نان دہیے ہی ںکہ وو محرفت کے مع رکز میں یزار لت پر نل یھ ضرور شمیں عا لالہ جارے نزک شر بعت کے خلاف ولات و محرفت حاصل میں ہو یر کیوکلہ وزایت نو کا عل ے اور مل اہنۓ اصل کے جع ہو جا سے ہ ولا ےت کا وجور اور اس ک خفن؛ شھوت مستیت تجو یہ اور ارصافے و اغلائ ج- 2 لال و فوافی میں مر و مستور سے جس ط رع آئینہ جس ا کے سان ےکھرے ہوۓ نس کا کس ہو بہودودی ہوجا ےہ فرقی صرف اص٥ اود فرع کا ہےےکہ سا رن کٹا نس اصصل سے اور کس ور ینہ ال کی فرمء ای ہی ولیہ ر سول اٹہ جک شل اور کس ہوج سے ٹڑتی ا سکی زن دگ یکا ایک ایک مہ تول و فعزا الد کے ر حول مگ کی ز نکی کا موہ ہو جا ے ء اور ہہ مطابقت ال حد تک ال پے ذااب آئی ےکہ ا سکو فتائی الرسول کا بعد متقام حاصل ہوم ہے ء اور ا کی زمارت و ممائمات اس کی حثت وروی اور ا کی مصا عحت و معیالست کی برککات ائسی می ہولی ہیں مھی رسول الہ مگ کی انی حیات مس٠ ای ہج زکو ئی کر حلله نے مراباء ھم قوم لا یشٹی جلیسھم ”وو لوگ ای ہی ںکہ ا نکی میکس میں ٹیجھی واا ید جطت عیل ر بتا١۰! انا کے روعائی انوار اور ان کی می 001
ہے ہے۔
٠ - ۲م۴۳)) 6۴ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا1٦05 ://603۷۱۱۱۹ م] 5٥۹٥5٥5 0٥ء0۸/
تل کے ارات دکھنے والوں فور ان کے پا ٹٹھنے وانوں کو متا سے بغیر یں چھورنۓ ء حضور اکر م عأپشگ کی رسمالت ام کاو صف آب نپ کی ات 2 لولیاع کے وجود سے سے ؛د بھی دہ لوگ ہیں مجن کے رکٹ ے الیم یاہ آح ے فلت کے قات اور بردے اھ جات ہیں مور اصمل تفیقت انمان کے ساتحے آوائی ےےء پھر صراطط جم اس کے سا سے ہدج سے اور اس پا مضرن اور جی رد وت ے۔ ہو خلاف شرع کام کرم وہ پیر نہیں کاروباری بے ان کاولی خواود ہی درجہ ض×۶ ء ئطب ؛ ہو یا ححوث پا حدرات ہہ یا مبچدد جووہ اتاع رسو لکی جھتی جاگی اور چلتی بجزرکی نوم ہو ما سے وہ عدایت کا مہ اور پر ہوم ے ا کی گے اور رہ اریہ کی حرے اور وو کی ہوٹی ے دا سے ہی دس فلس ہکی شان یں الد عمز و تے نما آ أ2ا ؛ٴلیَاءَ الله لا خوْف علَیہم وَلأهُم نزنوٴْن(ب کر ہیں ”وس سو اق کے ووستو یکونہ طوف ہے اور تہ گ]؛؛
۱
حدیث شریف ھا ہو بے شیک اللد کے دوں می وولوگ ہیں جو نہ بسی ہیں اور نہ شمی در قیاعت کے دن جو ان کی شمان ہوگی اس کے سبب لن بر بی اور شید شک کرس ےہ
اولیاء ای کے تل ہکماذات کیک احبا کا صدق بس فقبر ساششین اولیاء کرام کے واقیات ع رح قکر حا سے جاک معلوم ہو کہ وٹی ا یمر وی ہا سے گھ مر بج ت کا یامد و
۷۳۷3(0
سے کل رت
۱ ی۳۱۱۹ٴ)۴ٌ)))) - 1121 10131011 5/0ا[۷۵۰۱۸۲[/۸615(٥05://8۲٦٤
ٰ اع ر سول الله کے یر کیکھ حا صل نہ ہوگا۔
1٦005 ://603۷۱۱۱۱۹ ]م۱۰٥۹٥5 ۱٠۷۳۸ ۰/
21 ں خفش مر رت با یز ید ۴ ںا سے کہ و ہآپ گی فراص مماضظہ کھرےء اس نے س٢ ھا ہوا تھ اک وئی وم ہو سے ٘نس ہے گر امب کا مور ہو ما اللہ ہے فملدے وٹی وہ ہو سے جو اجاج زسو لک سرچ اور مظ بر ہو وو اپنے زم کے مطابن حعضرت ہی رک یکر امت دن کے لے مہ وا ایک سال آ پک خدمت مم رپلکن ا کو پک یکو یکزامت نظ رن ہآ نزوہ باگندہ خماطر ہوکر جانے لگا * آپ نے موی محبت اور شفقت سے اس سے و چھاہ کہ کرو ں کیا بات سے ؟ کیوں چارے ہو تم ے ؟ تھے می می ںیا ما سیسے ار سی کوک ی کرامت نظر نمی آئیء آپ نے فرمایاہ الک حم نے اس عر صرم یر۱ کو یکام خلافب سنت دمکھا سے ؟ اس نے عم اکماء ہ رگز نہیں ء ہ رگن نہیں !و آپ . پ تے فرماا حا جنی کی بی یکراعمت ے۔ انتباہ ہمارے معاشرے مل پچچر اسے مھا جاجا سے جج کرامات دکھائے عالانظہ پرکی مریدکی کے لی ےک رامات شر ط نیس شر اعم ت کی پاٹ کا شف رڑہے۔ ٠س 1181+8484+401404 حدمت یس حعاضر ربتا ا کی عاات عھ یکہ دو ججرک کے طور پہ آپ کا میں نورو ھا اور جات الہ می ر کی شود کار اور جات انی میں ے؛ تحطرت ایز یھ نے اسے فرمایاکراگمر تے بج کو و عکر کے عیبر اگوشت اور بڈریاں مھ یکھاجاے تو ججھے
ا ملتمسے
- )ا٣) ۵
-
٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
- حقف سح
ہسےے. ے ثخوزج .سکس ْےہہپتجے۔ سے ۔ ہمیے۔ سسھ ٹ٣ سے -صصسحاسفٔ سےجچے .ےہ ےمواسواسو ورای چس سے سد چوسود ڑ مھ ہے وھ × چجد۔۔ ہے ہے رر ۔ ە۰
/0۸ء٠0 5٥۹٥5۳٥5 م] 603۷۱۱۱۱۱۹// :1005ا
ابی لے فقیر اہن دور کے چیران عظام سے ع رخ لک جا ےک خود بھی اعا ر سو لکی عوادت میا اور خقین کے جاک ایک ایک مربی کی ایک اک ین یرس سو یدرو ں کا اب نیب ہو چناخح مضور اکرم مگ نے فرمایا۔ نس نے مب ری مروم سشنت کا ایا کیا ال کے مہ اعمال شیںل “٭ شمیرو ل کا ..- جا ۓکا؛؛ ہے ے محقق علاء نے نم مایا ”وہ مل جو سنت کے مطاق ہو بجر ہے گر ج قیل جواس عمل ے جو سنت کے خلاف ہو ؛ اکر کشر ہو1 حکایت فاروق اعظم رضی للہ تعالی عنه ات سرد الف عانی میں تھا ےک نقرت مر ار وق ا منص ری اقہ تعالی عنہ نے ایک دب یکو تچ رکی جراعت یں حاضر نہ مابا: آپ ے اس کی (الدہ سے و مچھاواللدہ ت ےکھاء سای رات فو ال یل مصروف ر ماش یکو نین کا للیہ جواء جراعت میں حاضر ہوتے سے ر وگیاء سید با اعیر اھ وین ری ایقہ ال عدہ نے فرماا ” اکر دو سمار می رات سوبار بت اور کو مز پاضاعت آد اکر جا تو اس کے لیے ساری رات نل رد حۓ سے الف لور بہت ھا_۔
الک مزرگ کی نوز اف مخصوص مج میں ا" جھ ١ ہہ بڑھاکرتے تھے ایک دن وہ اعت مم نما کی دوم ری رکعت مش ۰ 0 سے کر لم
انی پکھوٹڑی ہوئی رکعت امام کے سلام کے یر نے سے ٠ل می بے ےہ کے بی اٹ ھکھڑے ہوۓ سلاع کا معمول کے مطائق ا ننفار نہ کیاء امام صاجب ت بے چا
2۲۲
.ا
سیر یک ر. ۓ ہے٦ ہے ِ0
- )))۴۰۰۰۱٣۹ ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
0٠۰۰ ۳۸۱/ 0م5٥۹٥ ما 603۷۱۱۱۱۹3//: 1005ا
حطرت سے یہاں آپ ت ےک یاکیاء سلا حم کا اننظار آپ تن ےکیوں نی سکیا آپ نے رما یاکہ امام کے ملا مکاامنظار اس ل کیا جاجا ےک شایہ امام کے ذمہ بد سو پا ہو ہیں ن ۓےکشلف سے معلو ممکیاکہ میں سو خی ء امام صاحب تے فورا فرملیاء کیف پر ع٠ لکرچ ضروری ٹمیں, سنت پر عص لک رج ضروری ہوج سے حش فکی سنت کے بالنقائ لکیا یقت سے ہ تضور ن یکر میم ع پگ نے ابی معحب تکی علامت اح سنت خر مایا ے۔
عدیث میں ےک صحا کرام ر غمواان ارہ ای میم اہجتین آپ کے وضو کے پال یکوچ اخضاء شریضہ سے مس ہوک رگ جاء ا لکو اپے پا تھوں میس لت اور اۓ مو نموں پر لئے آپ نے وریاشت رمیا خم ایاکروںکرح ہو ؟ عرش کیا آ پ کی حب تہ کی وجہ سے آپ نے فرمیااگمر حم جات ہ کہ تم سے اد ای کا رہل عحب تکھرے لوم ۔ ۱ ”جب بولد پچ بواوہ اور جپ تممیارے پاس ایانت رکھی جائے اس یں خیاف کرو اور ا ۓ امہ سے کیک سلو کفکرو؛؛ (وم محبت جو اجاع سے خمالی ہہ کا کی ( ٣ ال جات بہ ےک اولیاء اف اے عل وکروار اور ارت و نال سے سنت کا اجیامکرتے ہیں چوککہ ان کا ہر نل تالب سنت مم خلا ہوا ہوحا سے اس لے ارد تعالی تے فرمایا۔ کونوا مع الصادقین مان چو کے سا تھ ر ہو حاکہ ا نکی صحبت کے افوار سے ہیں تضور یکر می حل کی سنت بر مع لک نے کیا لوپ مال ہو ہاو لیام اللہ سے اکی میے 898 ۶ دددج ق٣۳
ہہ یو عیے؟
- - ))۴۳۱ 1645 ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا1٦05: //٦03۷۱۱۱۹ م٥۹۱١ /
نت ہومپاتی سے اور ا نکواپنار ہب ایا اتا ےک صرالے عمجم جو دبین اسلم اور اع رسول سے عیارت ہے ء ور نہ اکر دہ اتا ری رسول سے تروع سے (واٹھ بی موشمج ے ء 1 راڑھی وا سے نماز میں بڑہتاء عال و مرا م کا ایز رکتادغیرء وغیبرد دہش گی روعانی اور خی چرو مرشد لیس جلنعہ ر کی کار دبا گیا ری ے مج نکو ہم اولیاء الد کت ہیںء قیامت می سے النا ح 0272-0/] دوسری عوام میں ہوگا جن کو اپکی پڑی ہوگی جب ہہ خو دم ہو اعت میں عریدول کے نا ک ام آۓےگاء جو لوگ خلاف شر چروں کے ح ریب ہدرے ہیں وہ خور سوج لی شک سے آنکھ خودگم است کرار ہبری کند
ان خلاف شرع چروں ے ونیدی کام تو لیے ر ہو شل حویا باء دم درو دکرأباء و ما شی یک رآاء ہہ الن لی بای پشہ ے یا دہ اکر سیاسصت مس مم ے تو عو می امور سے لیے کا مکرائ وغیرہ وغیبرہ یکن اولیاء اکن ےی کاردبار یی لوگ میں کے ارت چشہ ےکوی پر ے ےم ری موک پش ور ہیس: ای لوگویں سے اسلائی ء ردعائیء ش ری ء تی میعت ناجائز سے ٠ سے چیروں سے رح م اواکرٹی سے تو تم جانو تار امم ددشہ تمامم سمل مل طل_ ( جادرے: چٹ تٹیرے ؛سروردے اوغیہ ) کے قام اولیاء کرام و مخ اھ کیا مسحقہ یمر ےکلہ خلافب شرع کا مکرنے والا پبرو مرشد نے کے ڈائئی نجس نہ اس کی یقت جاتڑے نرہ ویعت ہکا گوئی جح دو سن کی فرش کی طر ح ایک د حندہ سے بلععہ ال سے چترکہ سی فروشی و در پش ہکاعا کب علال ہے لوہ غذاف شرع ہوکر ر ول ارد پیل کا اس بدا اور عا مکو دوک ین اٹھمی رم جے۔ ڈاکٹر ال مرحوم نے خوب قرمایا۔
خرقه پوش
۱ 30000
- )))ٌ۴)۴۳۰۲۱۱۷۹ ۱ ٤805://8۲٥(۷۵۰۱۸۲[/۸615[ا5/۵ 10111011 1121
۲
نر
ا1٦05 ://63۷۱۱۱۱۹ ]م۰ا٥۹٥5م0 0٠۷۳۸ ۰/
آە زیں سوداگران دین فروش جن ہر سے بالوں وانے نے رقہ موی اخقی ر کی ایے رین فروشش سوداگرولی کے ا تھ سے فریاد ہے۔ جس میس کے اخلاق و اطوار ء اقوالء و اقوالء صحت رسول خدا پگ کے مطالق نہ ہوں د وی صورتت می بھی پت نے کے لاکن نہیں
عارف رومی کا فیصله
م رانا روم رحمتہ ال" تعالی علہ ایے بی ڈاکو اور پش ور پروی کے مع کی ہیں _ کارشیطان میکند نامش ولی گرولی ایں است لعنت برولی کام خطان س ےک تا ہے اورو یكھلاج ہے اگ ولی اپے ہی لوگ ہوتے ہیں ا سے وٹی پر دای لعنت ہو (اشماو اون لی) مرا نال ار شار ماج ے۔ ولا تطع من أَعَلنا قلبهٔ عَنْ ذکرنا وَأَتَبَع غوٰہهٗ وکان آمرُہ فرٴطا (پ 1۵سورہ امب ) ترجہ :مت بعد ار یکر اس شف سک یکہ بن س کا دل ہم نے اپقی یاد (ور ای ) سے ال کیا ےء اور اس نے انۓ نفس س رکش (خواہش )کی یرد کی ہے اور ا کاکام لد( شر بعت) سے للا ہوا ہے ٰ جو فقرانی ہورےۓ فلس ب مغلوب ے ال کو گیا کے تہ سالک ے نہ دہ وپ سے آخ قل اکٹ خر شر مے نمازء وٹ ہے اور علوم رین ے پاوائف 00120
ہے سض پر اوراى "
َ - ))۴۴0۱۷۹ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
۴ے ك۳“ مر مم
ا1٦05 ://63۱۷۱۱۱۱۹ م] 5٥۹٥5۰٥5 0٥ء0۳۸/
لوگ پر ۓ ٹہ ہیں, اور سمادہ لوحع لوگوں کے ایمان مور مال پہ ڈاکمہ زل یکر تے پھرتے ہیںء ای لوگوں کے دام فریب میں ج رگن ہآنا چا بے ۔ اے یسا ابلیس آدم روئے ہست پس نه پر دڈستے بیایددا دوست
ان لوگو ںکی شال ىہ ےک رگو یا اشھس ہوکر حطر آوم علیہ السلا کا پا پچ ہو ہیں وس ہرانک انان کے پا تح سر یت (جو حجا تاخردئ یکا ایک ذر نہ سے ) ہ رگ خی کر جا ہے۔
مول ےۓ کر یم روف ال رجیم لئے وععوکہ باز پروی سے سادہ لو مسلراتو ںکوجیاۓ جو صا شی ن کا شعار ایا رکھر کے بزرگالن دی نک نام بد نا مک تے پھر ہیں, جم س ب کو فو طط فرماے۔ 7٣ رر ای
آپ مھی قی اوئیں فرل ہکی رع ری چیردں کے حالف تھے ای لے رسالہ ح۱ذاش ال نکی چتد مفیر حکایات ملاحظہ ×ل- جحکایت ایک پار یک شف نے اضر غدمت ہوکر عر کیاکہ مضور میرا رید جھھ سے مم ریا ف رما اکم دع رمعگیاء انس ت ےکا ایک اور بڑے بز رک * انا کے پاس پل میا فرما اکس وا سے چا گیا ع رض کیا ایق کا ام ین میا ےت فباا اش کی طرف بات سے اہ فا سکی طرف نشیس للا چا ہے وہ ائش کی طر فگیاے اس نے اچ اک یا میں بھی اب ہوگا۔
( تن رکی پیر ھا اور دوصرے مز رگ بہت عڑے کال تھے ) چک ]7
ا2 007
سے تس ۔
۱ کیا جو ا سے جا ہی کہ
: -)۶ ۱۶۱۱۱۲۰۰ 5۰ا0۸ ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[/۵011 231
ا1٦05 ://603۷۱۱۱۱۹ ما ا٥۹٥5ة 0٠٥٢۷٥ ۳۸/
لوگو ں کو مری ھکر کے قیرن ہک لیاککرے بلعہ آزاد پچھوڑ دہ اکر ےک جا ںکہیں اس ےکوت یکائل مرو خدا ل کسی ے ول ھی جو متقصود اصمل سے حا ص٥ لکرےء قیامت کے دن ایے لوگوں ک یگمردن بر ج کال نہ تھے لوز لوگو کو مری کر لیا کرت تے مذاوبال ہوگاء پھر خر میا اگ کوٹ کال مرد موجود ہو ا کا مریہ ماکوٹی خی رتو سک یکو ا سک مری دکرادے قو ٹس فدر قذاب چی رکو ا ہکا نام بتات ےکی و سے ہوا سے اتا بی ٹذاب مری ھکرانے وا ن ےکوچھی وکا ءکی مہ اسے الد کے ا مکار اس متایا سے مڑنی خد ای طرف بلایاے ۔کی کہ عد یت ش ریف می لیا سے الال عَلی الخیر ػفاعله (تھ جم ) مت یکی د لال کر نے والا اس ک ےکر نے وال ےکی طصرحع سے ؛
اولسی غفرلہ
ایر عد بیث شرف میس اس ٹواب کا اندازہ بھی آیا سے چنانحیہ رسول اکرم مکل فرما ہی ں کہ جو تفص زین سے آسان یک سونے سے کھ رکر الہ تی کے راسۓ میں صد کردے تے جس قرر ثاب اس سکو ہوا ہے اسی قزر ٹوب ا کو ہوگاج ایک نف سکو پرالی تکھرے۔
الک روز ار شماد فراا_
اھر تراں رح سے لوگو ں کو مری ھکر ےکلہ الن سے تھے دنیلائی نرہ ہوگاء روز یکی طرف سے نغراخت حا مل ہوک ما شمرت و با عوریی ہو گاء لوگ دی گمیں گے ا ام روا ال ےگ ہہ مھ زیادہ نرک ردپ دے گا, ری رکرنے اور خحری بکون ہکرےء یہ سب ش رک سے فقی کو اس حم کے الات سے اکر ہنا چا بے ؛ اور جت سکس یکو می تککرے مض اللہ تال کی ر ضا اب 6 0ا سانلا
7 موب او سے اش
۱ : ۴), 806 ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا1٦05: ://٦603۱۷۱۱۱۱۹ م] 5٥۹٥۰٥5 0٥ء0۸/
جحکابت وائل میں ہم سے ایک امیر بیعت ہواء یں خیال کیک یہ امہر ہے بس ے پہرے لگ اور وروییو لی کوبہت ۸د کیہ اد کی نے بکھم ےر اسیا ففل کم رہ امیر آرج تک جارے پال آیا ہی ٹیس اور جا انس ک ےک دوسرے وع تی یک اور ریب 0 7 سے کے 4 ہوۓ کے اور بظاہر سے تی مین نظ رآسا تل اس نے یمان کے درولیشوں حم ا ے بھی اکا ام حاصل ہوگیا۔ اس وقت ہم نے مچھاکہ مہ نف سکاخطرہ تھا۔ -:-:-.
اس وانھ موی ابد تقوالی نے ہیں سکھا دیاکہ میری ذات پر گھمر وس رکھنا چا ہے می جس ے چاہوں غدم تگرادول چناکہ آپ ار عال ےکلہ 7 ج جارے ا سآ ہیں اگر لے ایس نز غم نی فو ہآ ایی تو خوش ۔ جحکات
میس
ایک دفیہ یہت سے صرہیڈ ےگمداگر فقیر خدمت شرف میس آے جو سر جات اور بزرگا نکا ام لیت جھے. تضور نے تین تین یے ا نکودلاد ہے نے عر کیا تضور بھی صورت نو فقرا کی میاۓ پچھرتے ہیں ؛ معلوم جس ان کے اندر گھ یھ ققی بی کا اٹرے پا خم!یس ؟ و اس پر فرماا یہ ارک الد نیا ے اس یں طالب د نیا چھرے یں ء ووسر ے روز اور ہندو فقبروںکاگروہ جو حاجی ری کے ی ھکھلا جج جےآباا نک وکھی تضور نے چار ار چیے داد ےگ نے عرض کیا حضور ان ہندو فقیروں میں یکول صاحب مال ہو سے نایا مولوکی صاحب ہے ھی ما ریک الد نیا کے لاس میں طالبب د نیا ہیں لور : دناکی طلب
.))(1
1 الہاد ۔۳
- ))))۴۰۰" 6 ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
1٦005 ://3٥ئ ۱۱۱۲١ (بنزطا ا٥۹٥5 0٥ء۱٥٥
اش وق یگزاررے ہں۔
کی پرروں پر ہگاہ ڈا یج کیا ان ار 9-1 سے اکر یں ال
کی بنادئی شرائط پائی جاٹی ہیں ؟ کیہ عالم قرآن ہدتے ہیں ؟ کیا عدالت و تق ی سی صغامتب نہ لن یس مھ پائی جاٹی ہیں ۔کیا عو آان جس دنیاکی ر غیت غیں ہوئی ؟کیانہ ام بالمحروف اور شی عن النکر کے اد ہوتے ہیں ؟ کیائسی کال سے ا نہیں خی ون ےکی توق ہوئی سے ؟ جماں تک عالصا تکی فو فتی و تج آ پک می کی انا صفا تکا مو ح کیا الیک معفت مس ان ٹس نظرع ہآ ۓےگی۔
رن سے بے خرء نکی سے مھروسمء دتیا کے جامنء اصریا وک سے عارکیء اخ شی سے بے ہر یعہ اکثریت ان می اخلاقی بجر مو ں کی نظر آ ےکی ءکیا ہر روز آپ اشبارات ٹں خی پا ؟ لال جٍلہ ”ہز صاحب:: پر لاۓ؛ جاۓ وشت لڑکی اغوا مکھرتے نے گے ء ایک مۃ دن بکی صورت غازل ہو تے ہیں فوٹ مگ ےکر ن ےکی ”گر امت :ء اور سو ناعحاد ین کی جع گ ۱۷ء نان گے ؛ لوگوں ے وپ مس آکر نقری مع حکردی ” یر صاحب ےکا ہو سار ی اور چا مکی سے ھا لیا اور رولول ہو گے اور پ جانے وت ء ا پور یی م رکز ی شمر ہ جراں زیو علم اور عفل سے عوا مآراستہ یب راستہ ہیں مور جال سمادہ لو ح آد یکا آ جان بھی خالی از خطرہ نشیس دو ال لیٹروں نے اڑے تار کے ہیں۔
دب پبر کی کہانی جھم نے اخبارات مشش ہہ قابل افموس خر پڑھی می ہکہ علاقہ رگ
گیا ٭ ٭ رٹم
ا ہے لن ین 2 و ٠ٍ : - رر یت 7 س- 1ے ےا 5 8 ےہ
۰ - ))۴۳۴۱۲۱۷۹ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
1٦005 ://3٥ ۱۱۱۱۹ اذ۱۰55۱٥۹5500٥ء0٥٥/
یش ایک چجر صاحب تشریف لاۓ جن کی ہوک 'حکراصت۱؛ ىیی مھ کہ فوٹ گن کرت تھے ء ایک صاحب اھ نا سے بہ سے آکصے تے امتان کے طور بر “ پیر صاحب کے پا کائی فوٹ نے آۓ دجن مس بھ اہینے تہ پتھ اد ہر اھر سے اوہار لیے گے تھ اور ” پیر صاحب:ء کے سان رک ھکر فرمانے گے ”اکر آپ واٹچی لوٹ نگ کر ھت ہیں قے ا سک وگکردہیں۔ آپ نے فرمایا مر دہ ریس ہیں۱ ایک م کہ ال ناو میہرے جوا ےکھرتے کے بعد بے ای٣ گند تہ میں ر تے دج ء اور دوس ری کہ ا نکو جن یز میس لیبی فک دوں بین دن کے بعر ا ےکھولیش:ء چناضہ ووفوں شررٹمیں ح ہوککیں اور یر صاحب نۓ کہ میں بش کر فوٹ سنہبال لیے ء اور رد ی کانیزوں پر اور کائفہ لی ف کر اک کے وان کرو ہے اور وو لے نے ء مسرے روز ج ب کاخ زکھولے گئۓے و اندر سے ردئی کا دک ھکر فوٹ لانے وانے نے اچا سر چنا شرو خعکردیاء حر اب کیا من سکتا تھا ۴ چر صاحب ٹین دنع سے ایا تھے ہہ تو شمروں اور تو م رکز یی شمرو لکامال ے-
10 گرم ا1ء (کر تل لارٴ(3۷۷۸۲۵[۸۵۷۴ا ا۵٥)) پر لا ہر کے اگگریزوں کی شمروں میں یر ٠: کے جس مس انگریزوں کی جاسو یک جا راس ے اٹرازم لگا جک دیبات ہیں عو ام کیا ل تعا مک وک یاکیا 27 دماۓ ہوں گے دور حاضرو ای ے غلط کار اور ہے گل چیروں کے الات با ھکر انت لوک ری مرگ کا افط کی کر ڈر جاۓے ہیں ادھر بد مراہب (و پالی دعیر وی الن بے گل چیرو لک یکماخیاں سنا من اکر عوا کو مولبا کرام سے بد خی نکر کے اپنے دح تزو یہ پھنسما لیے ہیں۱ ای لیے ضمروری ےکم عوام ان محت کے چیروں ؛ مرخروں کا دامع جھڑ ںاور علیا نئۓ ائصحت کا رم تا ے ٦ وو عوام او طط یرد لکی فرع کرس اور کے چرہ مرخروں کی علامات بای ؛ تہ یہ طط
ف20 “0 ے اھ کے
ھ
لن .0ے لے
اح ےا مت۔ ے -
- )))۴۰۰۶۰ ٤٥4 ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
ا1٦05 ://63۷۱۱۱۹ اط اط ٥۹۰۲٥5 0٥٠٥٥ ۳۸/
پبرو ںکی خوشما گر میں اس سے تو قیامت میں خوشا کی ولوب یکو نت سزا لے
گی اگر زا مو ے قو شیطان انت س (گو جا شطالن )اقب ہا گا پبہری مریدی ضروری اس موضوحع بر فقیر نے ایک عرہ تصنیف مہ کی سے یما صرف
اک ات (وسلہ) مع شررح اور خوالہ جات تفاسر اور ععلیالۓ اسلام ع رز کرس ٣
سے ماکہ اس مقبرس طط ر بت ہ کی یقت معلوم ہو اید تا رک و تتعالی ق٠ رن ماک مشش قرماجے۔ ٰأيَها الّذِیَ اسَنُوٴااتتٌوالله وَابتَفْواالَیْه الَْوسِیِلَتة وَجَامِدُوْافی سِبیْله لْحَثکُم نْنْلِحُونَ 0(پ٢ٌ٠٠) رجہ : اے ابماندارو الہ سے ڈروء اور ا کیرک وسیلہ جاش یگوہ مور ا کی راو می سکو مت کرو اکہ تم خلا صھی پا آیت ن کور گی جس ام وی اللہ عیرت دبلدی ر مت اللد علیہ نے اہج والد اید سے ن کر کے وسیلہ سے راد ذاتِ مرشد کی ہے اور جن لوگوں
نے اف وسلہ کے مع ترفن شر یف اذا ر سول علیہ السلام اخقیلہ سے ہیں النا پا
کو شام صاحب گوں جواب دج ہی ںکہ اللہ تعالی عزوعل نے اس آبیت یل مو متو ںی کو زا بکر کے وسیل ہی لا ش کا عم فربایا سے او رکوئی نس جب مک قرآن شریف اور جتاب رسالت ماب علیہ الصلوق والسلام بے این تہ لائے روش نس ہوںا, نشی مومن وی ے جو ق رن اک اور رسول علیہ السلا مکوول سے تن مان کنا ہوگا۔ یش وو وس ہکو گی اور وجوو ہو سی لا ککا,چد و کو ران اور رسول وٹ پہ ایال لاے سے بود جم ہوجا سے اور وو م رش کی ات سے جو جھ ےکو موا سے وام لکرو ا ہے شر بت پر جا ےکا لوک کو مم
20 ٰٔ و 0ھ
ہے ا
- )ا٣)
کی بت5 ٠ ۰
٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
1٦005 ://3٥ ۱۱۱۹ اذ۱۰55۱٥۹5500٥٥۱۳٥۸/
رج ےہ بدی سے رو کک لوگو یکو ٠ گی کی مراح تکرح سے اللہ عمزو یل و رسول کی عبت کو دلوں میں چٹ مکر جا ے امرجہ بادی تی خمداکی ذات ہے دہ شے چاے بدامت گے 7 بی اس میم کی تر سےکہ دنا لو عالم اسب اکر ایک جن زکو سلسلہ اسباب می ایب کرو کہ ج ےکوکی سی مغ ںا پک دای ہوجء ای طرح سے پیر اور مریھ کے بعلتی کے پدو کوٹ لح خداے واصل خی ہوسک یق جب ت ککوئی چیرکاسل دستیاب نہ ٍ رایت کا حاصل ہوا محالل ہے۔ کا قاعر دنا گی ہرک چڑے جاک ے: نضرت ملا جائۓ روم فرماۓ ہیں۔
ہیچ کس از نزد خود چیزے نسد
بی لس .0
تاکه شائرد شکرریزے تشد
مولوی ہر گز نه شد عولائے رو
تاغلام شمس تبریزے تهھ شد
ین یک کوک یآ ادی ا ۓ ا آ پکو ہے 2 7 ے٢ کوٹ یلو ٭واووم کے ہی اعی در کا ہو لوہ رکی محنت کے فیر عکوار خئیں من سعلء دو سے :یت یس میں فریاتے ہہ کہ ت وا رکا جنا نو بد اکم ے, معحالی جو صرف م٦ن جے دس (ھی نی میدویاے بنقتی سے ہہ ھ کی جوا یکی شاکمر دی کے نف 6 عحق, یسر جواس ند ل کا مقط مع ے ا س کا مطلب بی ےکہ “و موی مس ہب یک مع تج نک یکا لام نہ بنا سے بھی مولانائے روم ملا ے کا سی _ ہس مہ ہیک کوک مدے سے بدااور پچھوے سے چو ٹا کا کی دہ ےی اھ 0
خی اس ریا نمی ہوک یی سے مڑھعاکی جیسی جنبس اتاد ں مہ سج اس دن می خی من عق ت 1یک ناک کے ےکا مقرب بارگاد ایس نویک نن
آ2 سے
- )))ٌ۴))۴۳۴ ۱ ٤805://8۲٥(۷۵۰۱۸۲[/۸615[ا5/۵ 10111011 1121
1٦۷05 ://63۷۱۱۱۱۹ م0٥۹٥ ٥٥١۰ ۳۱۸/
جا پیر کی اداد کی بغیر کے من ہے دوس ری جلہ ص لان تۓ روم ایی رح مات ہیں۔ پیر رابگزیں کهھ بے پیرایں سٹنرا بست بس پر افت و خوف و خطرا. مدریں رہ بارہا تو رفتلہھ ! بے فلادز اندراں اشنتئه' نی جن راہوں میس تو ہر روز چلتا بچھ رج سے ان یں در قہ کی اعراد کے بغیر بھول جاۓ تو راج سلوک ج سکو تو بھی نہیں ویکعا مور جس میں نس بے اور شرطان بے راجرنع صوچور ہوں ای یس ٗی راو ما کی ارار کے ایر و کیسے پل سکماے ء آ جک یکا مشابد دگواو سےکہ اس زمانے شی وتی لوگ زیادہ 7 گمراو ہوۓ نج نک اکسی سلریحہ پران عنظام سے تعلق نہ تھاء جن لوگھوں نے سی خیفہ رعول مین پچ رکائل کے ماتھد میس باتھ نیس دیااور خود ور اس را ہکو لے گر کے پچیرغ ےک یکو کی دہ شىطان کا شکار ہو ئےء اور ای مامت مج طائی کے مواٹ اور لوگو ںکوبھ یگ راو کیا کا وج ےکلہ آۓ ون ایک نا خرقہ جار یا / ا سے اور ای ٹرق ٌَ ضیالات ھی نے ہھ نے یں قرآن ماک اور احکام شر ید کو اہے خیالات کے موا ما جات ہیں ء تاو یل کے یراہ شی تھریف شمر ال یکرت ہیں احاد یٹ نو کو الٹ پل فک اپتی دا کے ما جمتہ مات ہیں وو مادی لئے ہیں ء اس رب سے خو دگم راو ہہوتے ہیس , اور لوگو نک گرا وکر تے مہسں: مرشد برض کی سب سے مدکی رورست ہہ سے کہ ان جالن و ابیمالن کے رشن فر سی راج رنون سے لوگو لکو مایا جائے۔ امت کی متزر و معتر تفر روج البیان یس اس آیت کی تفقیر ٹں حعفرت دامح عیل عفی فی ر حتہ الہ علیہ کھت ہیں۔ َقُوْل الْتَقِیْرٴ ثبتا بھذم الايْته سنقهٔ المُبَایعتھ وآخذ التلقین ٦5۲۱ص( )1 12
- م۴۳)) ٥۴ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا1٦05: //603۷۱۱۱۱۹ م5٥۹۰ ]50٥0٥0۱/
ت۹
من النشائخ الکبار وھم الذین جَعَلَوْم الله قُطْب اِرّشاد بن ازمنڈیم !لی النْجَلّی الْحیّنی بَعْذ التْجَلّی الْعلَمِیٌ (روںّ ا /یان ٣ ص )٣۲۳/۳۲۱ مھ مد فقی ایل تتئ یکا ےک اس اعت سے مامت ہواکہ عیعت ہو اور ماگ کرار سے ہرں اغز فی کر ارقہ تقعالی کے رسول مال سے ط ریہ چلا آر ا ے اور مار کرار وہ حضرات میں جسممیں ایل تمالی نے لوگو ںکی دی ء دئیو کی ء ور انروئی ر ہنرائ یکا م رکز ہما کی کہ اس نے اشیں علم خکاہ ری (شر یٹ کا عم )کا ور جط اکر کے ا شی موب بعیرات (د لکا نور) عطاکیا۔
قطب ار شا رکا لفظا ہتار ہا ےکہ اس پیرو مرش کی یعت ہہولں جو ارشاد (رجمائ یکر ۓ) میس ع رکز ی عیشت رکا ہو ءکہ قطب کے مع مرش کے ہیں نی وہ راہنرائی میں عرکز و مر ہوکہ عوام الناس دبتی محاللات می ا یگ مرف رجوع لاتے ہیں اور علاء اس سے مخورے لیت ہوں اکم ازم اسے اہ عم و تحقین تو رکرتے ہوں اس کے بعد جو فربااکہ جے الہ تی نے ھی گی کے بعد حینی ٹگی ے توازا ہو لت ضروری ےک وو ق رآن و سن ت کا الم ہو اور ماخ ساتھہ صوبی تھی ہو اور صوئی سے عراد صاحب طریقت ے سی وہ تم دری , نقثمندرکی : پچشکی اور سروردی ا سے لہ سلسلوں میں سے می نہ نی سے ےکر حضور ملق تک مل چنا ماس ہو در میان یں یس ٹوا نہ ہو ؛ اہ حضور اکرم الگ کک مصعسل و بر یر چیا ہوا چو اور اے ما تے دوس وا کو ا ا ا ا ور و ا جھ عالم دین نہ ہجو اور عالم دین دہ سے جے دوسرے مشاہیر د سم علیا کرام عام وین تلی مک رلیں ن کہ وہ سے ان بڑبھ عوام لجتی محلم وین سے ماواقف لوگ ام
و ا
8 َ“ 7 ہے مض پا اور ما لم
- ۹٭۴۰))) ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
1٦005 ://63۷۱۱۱۱۹3 ]ٌم۰٥۱۹٥۰٥5 ۱٠٥٠١٥٢۳٥ /
بے پیر کا پیر شیطان آئم ہکرام فرماتۓ ہی کہ بے چرو بے مرش کا پیر وم رشمد خیطائن سے چنانجہ تفر روج الباان می علامہ امام ایل مت علیہ الر حتہ کھت ہیں۔
کہ ”رت او یزیر مسطائی علیہ الر مہ نے را ”مئ لح یکر لھ تاذ فامامه الشيطانءء ججنی جس کا کوگی یر نیس اس کا مام ومرشد حیطان ے اور استاذ ابو القؾاسم التشیرىی اہ پیبرومرشد جن ابو علی ماق ر مت اللہ علیہ سے رواحی کر تے ہیں انموں نے فرما اک ہکوگی پداجب از خود الا ے اغیر ا ک ےک ہکوکی اسے ایا وہ نے فو لا ےگا ء ربیل نیس درےگاء مور ہو سکم ےک کوک ی خور رو /ووا بل بھی رو ےھر اس کا مچلل باح دانے در خوں اور اوووں کے پچھلوں کی طرع خوش زا کقہ نہ ہوگاء ار ایک رد ےک وکوٹی استاذ ماہر این اھ سے ایک تچلہ سے ای رکر دوس رکی تہ لگادے فو ا س کا مپلل بہت ىی عدہ ہوا کی مہ اے استما و مرش کے با تج کے ہںء مرش دکی ابعیت کی اس سے وی دلیل او رکیا ہوک کہ استاز ماہر کے سدہاۓ ہوۓ اور ترورۓے ۱ ہوۓ تۓ کا شکار علال اور دوسرے کے کاء جو سدھایا سی ں گیا : شکار ترام سے در فرماتے ہی ںکہ ما کا فرمان ہے ”ئن لح بیز ملح قلعم کہ جس نے مرش دکادامسن نہ کاو ہکا میاب تہ ہہوگاءء(رو حم البیان شر یف م٭ ر ۰۳۲ ۶۳) یت کے سلملد میس فرقآن مجیدر کے ایک اور مقام سے ادشھ تقو لی فر ماج ےک يَاَيُھَاالّذینَ امدُو انتوااللّه وکُونوأُمع الصتّادقین 20) اے ا پان والو !ايیّہ ے ڈرو اور پٹگوں کے سا تجح ہو ملا ایام اتیل طف علیہ ارہ تفیر روح البیان شش ا آبیت کے کت رم مج ںیگ
.))۲ لے
- ۴۳۱۹ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ہے تچ 00 . ٠. ۱_ ہ یفاولا ا شیا قد ےد لد
/0۳۸بء 5٥۹٥55 0٥ م] //٦۸03۷۱۱۱۱۹ :1005ا
ت1
ثم الصٔادِقُوْنَ هُم الْمْرْشِدُوْن ای طریٔق الؤصُوْلِ مر 'یچوں+ء سے مرا رو مرخ بی ہیں جو الہ تال ی تک ہچ کر اسنہ دکھمائے
ہیں_ (روح ا بیان رح ۳ صف ۵۳۲) اس کے بعد حطرت حفی علیہ الرحتہ لولیام حضرت جن اکہر رت ابد
تزالی ع ہک ار شا رگرائی تخل فرماۓ ہیں اضموں نے ار شماد مایا ۔ ا تم قراففالک علی ما خر کرس کی ال >ُحصثل فی تقمیک حرْمَته فاحْدمه ون مُت ین نیہ
یُمترفک کیفا یَثاء لا ذبیرلک فی ئقسیک معهھ تجش سَعِیَْا أمبادِ رأ لِامْتثال مَایا مُرك به وَيَتَهَاكُ عَنه الخ
گر تمریار ےکا کی اور (مشتی ین پیرو مر شید کی مر نی وعرل کے مصطا نی انام پاۓ توم ہے لف سک خواہش سے خلا صی نمی پا سح ء اکر چم عھر کھر عمابر ےکرتے روٹس جب ت کسی ای جرگ نم کو کہ انل کی د ا۱و رومانی عطظمت قمرارے دل میں بیف ھ گئی سے تو سے اچا مر شمد امو اور اس کے سا سے ایے ہوجا جیسے مردوبرست زندددہ جیسے چا سے خم بہ عم چلاۓے تم اپنے بارے مس اس سے ہے میا ہدک رھ نہ سوچو جب تم تیک بخت یکی ز نگ یگزارہ سے خماس کے ہر مکی اجاحکرو۔ پھر فرمات ہی ں کہ تم ج ھی کا مکرواپی خوائشل سے میں مرش دی ابا کی یت ےکمردکی کل دہ تسار ید او آخر تک بھلای تم سے زیادہ جانا پھر فرماے یک
سس سی (نخی روح الان ج۳ صلے ۶٦۰
یہس و ا
۱ ا800 ۶۴ )۴)) -
٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
ا1٦05 ://63۷۱۱۱۱۹3 ما ٥۹٥50 0۱٠۷۳۸ ۰/
ث
اما کس سے اور تیر ے د لکی اصطا حکرے تک ترک ذا ت کال ہو جائے۔
جع ا علیہ الر نہ نے ا بات > زور دی ےک جم می سے ہنیس کو ایے پرومرشد کے دا معن پکڑ نے میس جاتیر شی کرت جا ہے ج ھکزاب و سنت کرت رش ہار کی راجندا یکرے اور ہیارے دلوں می جو انیس پر انیل اور ۓ سکوث یک یکیغیتیں سر ہو حا یٰ 20 فر ند سش تک عام د اہر ہو: قرا نو سن ت کی لات نے این وو زگ ر کے سیینو ںکو ان ینان و کون کے اوار سے تو رکرو ے_ انتباہ ماں مرش دکادامن چیا ضرددربی ہے وہا ںآ کل کے دور میں ش راز پر اورا اترے وانے کو اض گر جا ضرورئی تب ور وور ماض٣رہ ُل جراروںل چھرو پیج دس یس می ابس کے لہ ہوتے ہیں ای لیے ححخرت مولا ا روئی دس سر نے فرمایات ۱
بسا ابلیس ادم روئے ہست
پس بہر دسنی بنایددا ذوست:ٴ
دیاش بیت سے ایٹس (حیطان) افو ں کی ٹل میں پھرتے ہیں
ای لیے ہر ہاتھ یں با تھ نم دبتاچا ہے۔
کار شیطان شی کند ناسمش ولی
گرولی ایں است لعنت برولی
شی کام و شیطان وا نےکر حا ہے او رکھلا جاوٹی سے ایسے وٹی سر للعنت ہو
دک یآ کل اسی ط رح بہت سارے لوگوں ے وزا یی کا راو اوڑھ رکھا ے ور اپ چند مخنموس چیلوں کے زر ہے اتی ممور یکراکے انا کاروبار چلا رکھا 01270
۰ کا : ۱ 2 جم 5 سر لا ٰی ۱ )۳
رِ ےد
- ))۴۴۴۱۷۶۹ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
1٦005 ://3٥ ۱۱۱۱۹ ام۱۰55٥۹5]00٥ء۰٥۳۱/
ے٠ ھا( ا کہ شر بت مط مرو ے اوائف قتف اور علوم دیع کا اگ لخظ سیل جانۓ ؛ ین سیر سے سادے مسلانوں کے ایمان: ضا کر تے اور اولیا کرام اور ران عونظا مکوبد با مر تے مر تے ہیام اتال نے بھی ایے لوکوں پر نفری نکی ہے فرماتے ہیں۔
شود ہر مود رازے خرقه می پوش
آه زیں سود د گراں دیں فروش
یی بے لوگ لیے لیے بال رک ھکر اود یرک یکا جیضہ یچ نکر دین فرو گیا رح می الند من فروشول پر ب ابی افو سی ہے۔
پا مسلانو ںکو ان وین فردشوں سے نا جا بے او کی پامعد شر لیت جح العقیدہ یدرگ کا دامن تمامنا جا سے مور اگ کسی اس شحم کے مندم نما جھ فروش پیر کے پیھندرے میں یں نتنسسشد پبرکیگر ف رج غکردے۔
آ کل کے عائل چیہ اور ا کے اش مربد ہہ بھی سکتے ہی کہ دوس ری لہ بی خی ہوحقء اور اگ رکوئی ملران خخالف شر بت اور چائل پچ رکو پکھوڑ رکی دوسری تہ مع کر نے تو ا یکو مرج طھردیقت اور نہ جانے کن کن خطابات سے لواز ے میس ھا لا تید بن رگا لن د گن اور مانیالن مر یق تکا یی ارشمادے کہ ال پیر سے چوک خلافب شر بج ہو سرے سے جیعت نیس ہو کی ہف اعت دوصرکی تل ہککرٹی جا ہے چنانحہ ال جلہ بر ص رکارصر من رت مجدو الف مال رتضی اللہ تعالی عن ہکا ای ککوب ریف در جک کے اکتذاکر جا ہوں آپ مال کاجو اب د تن ہو فمرمات یں۔
آپ کا خط پنیا نس میں آپ نے تتھا تھاکہ آپنے بر کے زندہ اور مود ہو نے کے پاوجوداگ رکوئی طالب دوسرے تج جم کے سج چا ۓ اور سی طلب
6)0)
: ٢ اور حا سی گ اس 5 6 -.
- )))۴۰" 649 ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
1٦005 ://603۷۱۱۱۱۹3 اما ٥۹٥5 0٠۶۷۳۸۱/
رٹ
جانزا جا ےک متقصصود تی تعال ی ے اور جر تن تعالی تف گت ےکا سلہ اور اکر طالب ر شید اپے آ پک وی اور رخ کے پاس نے جائے مور ا کی عیعت میں اہج د لکو جع ہاۓ فو جات ےکلہ پ ریز یی یی چر سے ازن ے اغیر طااب اس جب کے پا جا اور اس سے تشد و ہرایت طط بکرے ء کمن چا ےکہ پیر او لکا انار ہکرے اور جکی کے ساتتھ ا کو یاد ر کے ا يک اس وق تکی ری مریدی جو مخ رب وعادت کے طور پہ سے جب اس وقت کے پچیرو ںکو اتی خر میں ء او رکفرو ایمان کا پت لیس پھر خیدا تھا یکا کیا جر لایس کے : اسے مرید سر بہترار امو سے لہ اس طر کے بیس اخنقا وک کے گر رے؛ اور ووسرر ےکی طرف رجوم نکمرے) اور خدا ا یکا رات اظیارد کرے ء ہہ حیطالی حطرات ہیں ج وہ پر نا تح لک ز ندگی کے باخث طال کو تق توالی سے بنا رکھتے ہہ جماں د لکی جمعیت اور ہرایت ہو ہے الف ادھر رج عکر نا جاہے اور شیطالی و سوسہ سے پچاہ انی جیا ہھے_ کین رف ص وو کب ٹر ۷۳)
شرائط مرشد کامل
ل ول وب جاتے ہی ںکہ دور حا وش طر وت کے یم ہیں تر ماط عتا نر کے لوگ ررقت دشر بی تکا مبادہ اوڑح کر مسلرائو ںک وگ مرا ہکرد ہے ج سںکمیں شر نیت سےکوسوں دور لان یبر مال م نکر بھو کی چھائی امت کو لوٹ رے میںءای سے ہر چمار سلسلہ کے مشگ نے مندر چہ زی شرائ کہ ہیں؛ ٰ جس میں _ شروی موجود ہوں اس کے لے یقین یک دہ ساادر یجان پا رسول اللہ صلی اوقہ علیہ سم ے ورنہ بی ےکہ دو دی نکاڈاکو لور طر یقت کا تن
ات ٦و 00
1 --- ش۰
--َ - ) 108 ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا1٦05: //٦603 ۷۱۱۱۱۹ مٌ] ا٥5 ٥۹٥5۳5 0٠ /0۸ء
اححضرت مپرد دن و طت مشاہ ام رضا خملع صاحب لد سرہ نے فٰ یر جو ,کسی وم سی ػجع المقید:ء سج ال عمال جائع شرائل عونت کے ہاھ اتھ دےم مرش ناس نے یرہش کت ہیں۔ ( کی افریتہ) بی لام ابلست مرو وین و علت شاو لد رضا ححرث ید یلگا قد رہ م رد کان لکی جار شر یں ضمرد رم میالنا عبات ویں۔
دور حماضرہ ٹیش بے شرط خھام شرائ کی جالنا ہے جب کہ بے مل چروں ۓ علاء کے ور گھڑانے می ںکوئ یسر نیس چچھوڑی عالاکنہ ىہ سم ےک جال می ول اللہ یں من سکتاء مر اللہ تا ی کسی می (ان بڑھ )کو و ہتانا چا تا ہے لے اسے عم نظاہری سے موا زج سے اس کے بعد اس کے سر بہ ولا یت کا جانا سیاجا سے لین مدس جیارے دورد کے پچیروں ک ےکک التا کے اکر چر اور بر زنوے اور سیلدہ نشین دٹیء اسلائی سےکورے مور اش ہیں نہ اہی اولاد کر جا دی علوم کے بڑھانے کے کا ںی ء اسکوگل ء میں ڈگ یاں حاصل کرات ٹیں نون اس زامجنی, فقول تعلیم پر بے بھا یہ بھاتے ہیں نقیر یہاں چند د لال چا مرج سے جس سے واج ہوک چو مرش دک الم ہوتا فسروری ہے اگرچہ جال یعاد زاہرہ ضقی ء پر ہی زگا شب میدلر فور صائم الد جرال سے عالم ال سنی الحیہ پر افضل وا عیٰے-۔
۔اشضانی عفلوق میں سب سے لے پیرومرشد سیدی آدم سی مزماو علیہ الو والسلا مکو ہیاپ گیا جج ب کہ فرشتو ںکی خوائش مھ کہ وو چھکلہ ان تع یکا 0 ا و مل آرے اس لے وہ خلافت کے زیادو زار ہج گر
107 ٰ صحصدت:
2 ابر کس
سے تھا 0۲
- )))۴۰۰ 6 ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
اس 01.510000 3م 618 1
اللہ تی نے کت دالوں کے مہ یش عم ال صت کو انا دنب ماک واش کر ۱ لہ 2 نیک و عباد زار باشب بیدار ہو جا ناکو کی باعکمال کیل سے ملح کال ١ صا عم ہو ہے جو صاحب علم و عر زان ہو گا دی صاحب اقبزار وارشار اور آ٢ زین پ جاراناتب ہوگا۔ رت عبد اہن عباس رض اللہ توالی کتما سے موی ٰ
تدارس العلم سناعته من اللّیل خیرمن احیاٹھا( ھمءثرسں) ۱ مات کے اگ لحہ یل عم دی کاپ ہنا ھا با رات کھ رکی عبارتہ سے بہھرے۔
عدیث سے معلوم ہوکہ دوس کی یعاد تو کے متابلہ میس عم دن کا مقام بت ىی بمر سے مین افسو کم لا کرام بھی ای مو ری ضائح گررے ہی سک انا شی سے می درس و در مس اور مطالع کب کا زوق اتا نظر أداے۔
۳۔ رد سول الد خاپنگ مسر ند ی ریف می دو مجلموں سےگزرے تر مایاکہ نم دوول بعلالٰی > ہو نی اسچھاکا مکررسے جو اور تم دونوں جس سے اک دو سے سے تج سے ان میں سے ای کگروہ گی طرف اشمار ہککر کے انے۔ لگ اللہ تا سے دعامیں انگ ر ہے ہیں اود ا کی عبادت مم معروف ہیں اراس سے لو لاۓ بی ہیں اس اکر دہ چاہے تا نکو عطاکرے اور اگر بے تو عطان ہکرے اور دوصر ۓےگروہ کی طصرف انار مکھر کے الہ ےگروو ٹر لچ گا عم ور بعت کے اہکام یھ را ہے اوران عو لیکو علم بڑھار ا ے ۱
فرمایاسں ے مت پڑھاے والے لول وومررے عباد تگزاروی سے ۱ انضل و سز یں اور بے اللہ تھا کی طرف سے مع مکو روغ د ہے دالا ہیاک ھا پا
د-
ہے کی ہر تر
- ۴)۱ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
/0۸بء 5٥۹٥5٥50٥ م] 603۷۱۱۱۱۹// :05٦1ا
رتپ
ے پچھ رآب ان علم وین ہڑ ھن بڑانے وا لن ےگرو جس بیھ ے ؛ء( منکوۃ ش ریف )
ا سکی شرع می ملا علی مار ی علیہ الر حتہ کھت ہی ںکہ اس داقعہ یس اس ما کی طرف اشمارد ےکم مور یپ علم والوں میں سے ہیں اور علم وا نے تضور پاپ سے ہیں٠ (مر مت شرح مقکوت رج صفی ۲۵۲) ۴۔ جولر ےآ تہ فرماتے ہ ںکہ ق رن و سشت میس علاع وی نکی جھ شمان ات یگئی ے ا سک رو سے ہہ ایک حقیقت مسلمہ ےک َلْحْلَسَاءُ اَفُضَلٌ الناس بَعْد الائبیاء عاباء بین اخیا کرام کے بعد لوکوں میں سب سے کہ رر 7 دنو یت
حضرت لقیان عم نے اہن یی کو صی تکی تع کہ ۔ َابٰنی جالس المْلَمَا ء وزاخمھم برکیٹک فان الله مُحٰی القتْوب بنوْر الْحِکَمتھ كُما یحی الارض المیتتھ بوابلِ اے یرے تی ! ! علاء کے پاس ٹھاکروبلاشیہ اللہ تالیعلم دن کے فور سے دلو کو اۓے زندہکرح سے جیے مردہ زش نکر و سلا دحیار بارش سے ز ند ہکرت ے۔ ( مو میا امام ایک مہ ۴۷ے) :.
ری ےک رد مر شی رکا نصب علامء تی ا یکو زی تین رج پنزاجو جال د مین شی اا سکی حت جائز شی بععہ ہوٹی تی یں ٢ صاحب روح البیا نآصتب دسل ہگ دفیر ٹش فرمات می ںکہ۔
۱ ق ۵ھ
ا ات ےا
۱ ی۴)۴۳۰۲۱۱۷ٌ))) - 1121 10111011 5/۵ا[۷۵۰۱۸۲[/۸615(٥805://8۲٤
ا1٦05 ://63۷۱۱۱۹3 ]ٌم۱۰0٥۹٥50 0٠٥۷۳۸ ۰/
رت
واعلم ان الایتھ الکریم صرحت بالامربابتغاء الوسیله والابدمنھا البتتھ فان الوصول الی الله تعالی لایحصل الا بالوسیله وعی علماء الحتیقته و مشائخ الط ریئتھ(تال العافظ قطمه)
طے ایں مرحلهھ ہے ہمرہئی خضرمکن
ظلماتست بترس از خطر گمراہی والعمل بالنقس یزید فی وجودھا واما العمل وفق آشارةۃ المرشد ودلالتھ الانبیاء والا ولیاء فیخلصھا من الوجود ویرفع الحجاب ویوصل الطالب الٰی رب الارباب قال الشیخ ابوالحسن الشاذلی کنت انا وصاحب لی قد آ وینا الی المغمارۃ الطلب الدخول الی الله و اقمتا فیھا ونقول یتح لنا عدأ وبعد غد یانٹس لم لا تعدین الله للّه نانقظنا وتبناالی الله تعالی وبعد ذالک فتح علینا فلابد من قطع التعلق من کل وجھ لینکشف حقیقتھ الحال۔-۔-ا
یی داش ر ےکہ اس آی تک یہ نے وسیلہ کے طل بک نے گا صاف مور سے تھب کی سے جس سے ہ رگم چارہ نہیں ہو سلمکیوجلہ وصول الی رثریغیر وسیلہ کے من شی اور وسیلہ ے عایاء یقت اور ما طریشت مرلا ہیس اور فف٠ کی راۓ پ عم لک را اس کے وجو دکو زیاد مرج ے , لگن مرشد کے عم اور اقریاء اور اویا کی ولالت بر عم لکرتنے سے لٹس اب افلاقی ذمی٠ سے نل عصسی ما ص لکر اتا سے اور ججاب دور ہو جا ہیں ء اور طااب دب الادباپ کے ۔اتھھ ول ہو جاج ے جم موائصسن شاؤلی رحتہ اللہ علیہ تے ف رمیا ہ ےکم یس 1یک رفق کے ساتھ ایک ار یش طلب خدا کے وا سلےمگیالور ہم آئیں میں معنک وکرتے جھ ےکلہ ہما اکام تل یا بر سو تک ہو جا ےگا ایک دن ایک بار حپ آدبی جمارے پا آیا اور اس سے بر رے معلوم ہوج تھاکہ سی وٹ کال ہے ؟م ۱
81 ۲۲۱۲)
: 2 سا ٠ے۔ و ٭ جح لیر سے ب
- ۴۴6٤۲٤۷۰٤ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
1٦005 ://٦603۱۷۱۱۱۱۹ م] 5٥۹٥5٥50٥0۸
ے ا سکی خدمت می ع رلک کہ آ پ کا کیاعالی سے ؟ اس تن ےکھاکہ السا نس کے ما لکاکیاىو ھن جھ ےک می راک مکل جار سول تک من اد ےگا اے اس تز اون کی ,گی اللہ ہی کے وا سن ہکیوں خی ںکر جا اس سے ہم ہوشیار ہو سے ور ان کی مارعگاہ می تز کی۰ اس کے بعد جماری مشیئل آسان ہی بے تک گز ید لوگ کی صحیت میں شرف عظیم وسعادت می حا وت ہے۔ -1:۔ ۱ ہیں صاحب روح البیان امام مجر اساعیل طف ی جنیر حتہ ایند علیہ جھ ڑگوں سے وور میں پبہ کے مفسر ہیں , جن نکی تفر بر علاے احناف و صوفی کو از سے بی دجہ ےک اس تخب سے وہای ء دیید یداہ خوش ہیں کہ ىہ اچک محر مس مرش کے دم یکو پڑنے پر زور دچے ہیںء وھ مق رکا ترجمہ فو رن بح مقرم ۰ء ىہ حر ھی پچیرومرشد کے لیے عاللم جو ناشرط لکانے یں اس کے پاوجوداگ رکوئ یکسی بچائل اور ہے عل کا مریہ ہ کر جحم میں خود پچھلانک چجٰے فو فقی وی خفر یکر سا ے:ء اخقیاربرست عق ے۔ ضعحخرت عارف روگی دس مر نے فرمایات
تقر جچو دو سوئے ألھ
سرپیچ ازطاعت و ہیجگاہ ۱ ۱ ترجں : تضور ملنگ نے فربیاکہ چرومرمشد کے و لے ے خیدا نا یکا شرب ماگ کرواور ا کی اطاعت سے بھی بھی صر نہ رو
٢ زانکه اوہر خار اشن گند
رد سے کور را روشن کند
تر جمہ ۔کیوکہ پیر مرشد ہ رکا نن ےکوباغ ہنا سکتا سے اور چر اند ھی ان ھکو روش کر ے۔
"ھ8 ۴ پت ہے ہی۔'
صحےسصًےوط ھی سار
- ))))۴۲ ٥٤۹۹ ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
1٦005 ://63۷۱۱۱۱۹3 ]ٌم۱۰0٥۹٥5 ۱٠٠۷٥۳۸ /
رت
فائّدم پر مرشد قرآن وسن نکی لی تاد جات کے زذر بے تما گیا چر شک کا مل چاسکناسس لوردہپرام می آگھ(برایت سے حدم وٹ کو ش نیت ہ شت کے فور سے روش یکر سلماے۔ >٣ یاعلی ری ال عر ازجملٹھ طاعاتِ راہ
برگزیں تو - سايیتھ خاص الھ تھے اے می رش اللہ تعائی عدہ !راو تن کی خمام عباد وں شش خاصان خدا تقاٹی کے ساىہ (صعحبت شی ر بے )کو تر یع دو
کچ کے وا رو
حضور اکر م حلل ہہ ظاہر عفر علی ع رلٹ یکرم ارٹروجمہ سے خطاب فرمارسے ہیں ین در عحیقت مج ای ام ت کو دے رسے ہی ںکہ جس فور عباوقں اط ختییں اور ر اتی ہیں ان میس سے سب ے افضل اعطاععت و عبات عایاعء تح گی صحبت میس ر ہنا سے اذ انم ا نکی خحد مت یل مر اور النا کے زھر سابیہ عھر مم مرن ےکو تر دو۔ علمائۓ عم اباصحت کے عقید ,کا عالم دین مراد ہے مجن یہ اکٹ بے چارے حمد کا ار ہیں اسی لے عوام می ا نکی فدرو ضزلت یں دوس افخ و لا یمیس گر قیار ہیں ر کی چاگر چہ وو بھی لیک د نیادار وی سے لین اۓ رک رکھا ٹیش سیاتہ سے عوام یس خو کو وئی ال٣لرہیاکر دکھائے کیا تی ہمت رکتاے خداتعالی ہیں جاور ہےر ہیر مرشد تعیب فریائے (ان) ۸۔ حعد یث حر لیف میں سے أَعُل القران عرفاء اعل الجنتھ نقله الیسوطی فی الجامع الصیفر خرن کے مل والے جننتوں کے س روا جا ( گے ۰۱ع١)
3)1 ۶ بی ھ2 1 :
٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
۔۔ ط۱ ۶ ۔ نے لکیوڑکےتج۔ ۔۔ سے ےل ان8 اس .تد سیکست رہ ہہ بی ٢ے وہ ۔ اد
/0۸ء ٥۹5٥50٥ 5ا م] ://٦603۷۱۱۱۹ 05٦1ا
رت
فائّدہ ا لک شرع میس امام ععبدالروف منادی فرماتے ہی ںکہ جنت شی اخیاء لیم السلام تام جنتوں کے ایام و مدکی ہوں کے اور علاء وین جن کے سیت علوم قرآن کے مرۓ ہیں, ایام عم السام کے بعد لوگوں کے سروار را نما +روں گھے۔ ۹۔عدیث شش ےک اھل القرآن اھل الله وخاصتھ قرآن کے عم دانےء انشروانے اور اس کے نیائ ید ے میں ۔(جائمع صنیر جلد اص٥لے ٢۰
ثھ ۔
قائد ام عہدالروف منادی اس کی شرع مم کھت ہی کہ اپنے عم کے زر ہے تقرآن کے الفاظ و معائی اور اس کے ادکام کی حفواق تکر نے اور ا کی تقلیات حر عل چیرا علاع عی اولیاء اد میں اور خماصاان خداوند ہیں ”'ھُم اولیاء الله المختصون به (ا٣ٌ) ین دونولیاء الہ ہیں جو انس قب (اہی ت رآ نے خماصس ہیں۱ حد یٹ ریف کے لفظط ”ایل تق رآنءء معکرین حد یت (پرویزئا نولہ) ین ججاتے بے کتے ہی ںکہ ىہ جمارے لیے دہ بھاو سے ا نکاعنلمی جا غیمر مقلدی نکی رح سے جو اآحدیثہکی پوت سن کر انے میس بپچھو لے میس ساتے جال امک شہ ہہ مرا یں 49۔ خلاصہ رک سم عوام ای فی سکو ابا مرشد بنایں جو قرگن کے علو مکو سینوں میں لیے ہوۓ ا کی عبارت و معن اور احکام کا محافظ ہو سشکی جو علوم رآ٠ نکو سیک ھکر دوسرو یکو سکھاتے ہیس اور اس کی لیا یکو این عم و کے ور مج فر وخ ےج حر الع کاردا نع پارلو اور ان گی صمح کو نا کی بت 0اا
٣٣ مر ا
8 ما سم : ۹ ا و ےد
-- ))۔- 048 ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
ا1٦05 ://63۷۱۱۱۱۹ ]ٌم۱۰٥۱۹٥5 0۱٠٥٢۷۳۸ /
ت
عبادات پ مر دو ١۔ م لاناروگی ئے ٹرمیاے
ہر کسے در طاعتے یگریختند
خویشتن را مخلصے انہّیختذ
ترجہ : رسکی کس یکی پروی شش اہ لا سے اور ایے لیے مجا تک صسورت کال در اے۔
٢ تو برو درسایئه عاقل گریز
تارہی زاں دشمن پنہاں ستیز
ترجہ : ہراگو عالم باعل مرش کے سابہ ٹس ہو چاے کہ خم اس چپ کروار کر نے والے شع سے امن میس وہہو لی انسا نکا ایک حیطائن ایا وشن سے جو خغیہ اور او شید ہگھاققوں سے انمائن پر چصپکر وا کر جا سےء ا کی خی کھا نکی ے ایام عم السلام واتف ہیں ان کے وار ین علاء وین یی علاء عق جو تن ورسنت و تطبرات مصطل کن ےس احقہ ہ داقف ہیں ع رین کامشن ہیں مور شطان خی کی خف ہگھا یں ے باخیر ہیں یز ااڑیی سن کا دامن کچ لو کور ال کی سای کم شی بج جات
۴ از ہمه طاعات اینت لائق است
سبق یابی برہراں کو سابق است ۱ رجہ :ىہ تممارے لے قام طاعول سے زیادہ مناسب ہے ؛ مم پہ یی ف دی کرنے وانے سے آ کے مد جا گے ۰ء
مضور یپا کی تحلیعم ے ج وآ حفرت عی م نشی رض ار توالی عہ کے ذر یج ای ا تکو وے ر سے ہی ںکہ مرش د پکڑن ےکی مکی تام یں
ور ات 0یو نسمسا جج
-- ۴(۰) ]0۶۱1 14 ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
1٦005 ://603۷۱۱۱۱۹ م] 5٥۹٥5۳٥5 0٠ءب0۸/
كت
سے آگے بدھ جو گے من جو لوگ اخمال صا لہ کے ذر یج آگے مڑھ رہے ہیں مر ش کا دامن کپلڑنے فور ا سکی برای و تلیعم بر عمل پچر افص ان سے رھ جا ے۔
نوٹ : فبر نے پر کے لیے (عالم ہدج ضروربی ہے )لال جچیئی سے یں جاک دور ما۶ وٹل سنی ادری عائل اور بے ع٠ل چروں کے بعندوں سے پک لکر الم با مل ضتی بی گر اللہ ضجح العقیدہ کے دا نکی پچہ شش آجائیں۔: (وما علینا الاالبلاع)
ندابیات بر حال مرخ کائل کا عا لم ہدج ضردربی سے جال چبراکٹر بے ہو تے ور بھی جت کا اد تعن مور عرید ھی سا تہ اں جس خوش قصت مرشد صاحب کو عم نعییب ہے اس کے لیے ضرودی سے کہ الع ہدایت برع کرے جھ عارف روگی کرس رہ نے میالنا فرمائۓے نان ٹرمیا۔ .چو گرفتی پیرہن تسلیم شو ہمچوموسئی زیر حکم خضررو ترجمه : جب ت کسی کے مرید ہو او نے خردار ہمہ تن سم درضا ہچ عطرت موٹ یکی طرح حضرت خر کے عم پر چاو فاتدد س٥ حفرتہ خر و موسلی علی دا شٹھم ال ما مفصل واقہ فقی ری تقیر فو ال ر جن میس بڑ کہ اسی سے استد لا لک کے عارف ددگی فدس سر نے سب سے لی جات سے فرائ یکہ جب تم مضورحلل کی بدایت و تعلیم کے مطل کسی کال وعال با گل کے مرید ہو سے تو ہمہ تن الن کے ہو چاو لن کا ہر 0200" َ عایاہ
ا٥80 )۰)١۴۱۱٥۲٥ ۔ ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
5١٦م مہ ٥اط اما ۷۱۱ئ5://۵۸ 0٥۰٠٥٥ ٥۸/
رت
بات د ہر ہدای تکو این لیے زر کیہ مرکات و حجات کھواور دل و چان ے ال ن کا ٠ قر مان ماناک رچہ ا نکا فر مان اہر قابل اعترائ می نظ رآے۔ :. ۲ صبر کن برکار خضر اے ہے نفاق تائہ گوید خضر رو ہذا فراق ترجمه اے خلوس وانے مم مرشد کے ہرکام بر عع رکرو اہ وو ول تہ
کہ د ےکلہ جا ہیار گی تمارک جد اٹ ہے
ٰ ۱
۱
ہ“ایسسس-ی-صےمےےجے۔_ شس
علاء اشن و مشا این کے ہ رکام میں مت ہوا سے جن سکی جم ۱ کو مرید شاید نہ جم کے جیے حضرت خر علیہ السلام کے واقعات سے ظاہر سے جب حطرتب موی علیہ السلاعم نے الن بر اختزاش کیا فے انموں نے انی اپی صحبت ے ال کر دیااور جب الع وا تا کی تہ میس مضممر ماف کا اکشراف فر میا ت2 ددابٹی عچکہ مد عق اورک تھ ای طرح می کو بھی اکر ہک یکوئی بات یہ طاہر . ال اختزاضش نظ رآ نو اعترا لکن کی جاۓ ا سک یکوکی مناسب اویل و تو جی ےکرے اور گر ماوئل و نوجیہ بھی مجھ میں نہ آئ تفم کا تضور بے ہج براخعترائض نکرے۔
٢۔ مرشد کو آزمانا نہیں چاہبے
ہہت سے ہے وقوف قب کوئسی غفرلہ نے بھی ود سے ہیں جھ عرید ۱ بہدئے کے بعد مرش رکو اپ یکسوٹی (جمالات) سے آزمان شرو کرد یے ہیں الع ۱ کے امتان جس گے رت ہی ںکہ ہہ ول اش سے نان ء ححضرت موا نا ردئی مد سر٥ چ تمہ اس ضزلہ کے بہت ڑے عارف ہیں دہ بحت فرماتے ہی کہ ۱
30 ً 0
سے کا یی
- ۴۴۲۱۷۹۵ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا1٦05 ://٦۸03۱۷۱۱۱۹ م] ا5٥۹5 0٥ء0۸/
ت۹
”می کو مبھی بھی ا نے یرد مرش کا امتوان نیس ینا چا ے ء اسے آزمانا ٰ ٹیس جا ےک ۃککہ وہ ناب رسول کچ سے فور سے آز ماع ا کی وین ہے گور ۲ ۱ کی نوہ نکر مر کے لے ای دع بادی لور بلاککت کے سوا یجھ یں چنانچہ رت یں۔ ٰ ھچ شیخ را که پیشوا ورھبر است ۷ گر مریڈ نے امتعحاں کرد او خراست : 7 ین جو پچشوانور راہیرے اگ ہکوتی رید اس کاامتحا نککرے فو کمدھاہے- 0 فائدن :اییامرید جج کو آزیا ۓگمد مکی رع اع دے عفل ہے دہ ۰ ا دراصل اپنا نقصان رر ماے اور اے اد ے 1 مرح اے نان دم ما نکاکوئی حا تی ُ اور گھی یرت بدلات ہیں جخیں فقیر نے رسالہ شدت مت ش ری میں تل سے ع رت لکیاےء جیما متانا می خھاکمہ پچ روص ش دک عام ہوا ضرو ری ے, اگر عالم با فلی ےکک مسقبات تک نرک می سک ج تو می عارف ہے کا عحیقت میں ے مرف تک شاسا چائل پیر آسپن بر اڑے وریا میں مل چھ اکر دوولی اد تی شعبدوباز ے_
تق لوڑی غقرلہ کے شرگرد صاحب چیک ع یدک کے د مخ میں جب میں ۓ امم ںکسی شرمی فلطی سح ٹوکا ف وکیا استاد بی یس نے آپ سے نظاہ ری عم یس تھوژا ھا الین عم معرفتہ.۔ میں تے ا سکرسنایات ١
بہر رنگے کھ خود ہی جامه می پوش
من انداز قدت راخوب می شناسم
۲)۰ بن
کت 5
5۰ا8۸ )٤)]]٢۸٥۰٠۰۰ ۔ ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
ا1٦05 ://63۷۱۱۱۱۹3 ]ٌم۱۰٥۹٥5 0۱٠٢۷۳۸ ۱/
رت
7 ین کر بہت شر ملا ا کے بعد جارائش رم عریدروں کو کنا استاو صاحب ظاہر خہیں ےہ کو شی فقیر اوٹسی خفرلہ کے بہت سے شگرد مقیر یر بارائضس ہی ںکہ فق ر انیس ا نکی بے ر ہر وکیا س کیو ٹ کا ے۔
امیر الہ مقر وڑسی خفرلہ ہے ہر سلملہ (تادریء چشتہ ؛ تققیری ادڑسی کے شاہ راوگان شگرد ہیں ان یں بنثررت سادا ھی ہیں نو ساؤال طیبہ کے ساد نشییان بھی اس سے فقیر کے بر امید ےک مہ رات فقی ب رکتناہی اراضس ہہوں ین ان کے عور ین اعلی ال ہی ںکوئی فوکرم فریا ۓےگا۔ (انشاء اش) جیسماکہ دنیاٹس ھی دہ انے شاہت راوگان کے اساىقرہ یر نظ کرس ہوالور ہوا سے اور ہو ر ےکا چا کہ ٹور امام رای سید ردالف عالی رضی اکر نکی عن ےکا واقیہ مور ےکہ آپ تے دو شتراوو کو طا طاہ رک لا ہور کیرحت اللہ علبیہ کے مال بڑھۓ کے لے ھا پھر خود لا بات کے لے تخرف اے تو سا طاہر لاہوری کی شال > شی تھا پیا موم ہو و شرادرے بھاپ یئ معلوم نے > ا طاہر لاہور یکو نہ صرف مسعید منایابشعہ گا گرم سے ول یکائل میادیا ( )تیر مظبری۔
پرومرشر کے لے ضروری ےکم حضور سرور ع لم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک ا س کا لد (تادرہ چشہ ؛ نقشبندہ , سسرورویی :لویب ) مل ہو مہ شرط پچرو مرش کے سلملہ جو اہ مریدو ںکو مطبوص د ہے ہیں لن اکر ر گ کریں کے اس بے اتتما ل بھی مقصود سے تقی رکواجازت ہو جائے تو ستر فیعمد پر نظر ام سر لاکر دکھادواں۔
شس العقیدہ ہو اگ ری بد عقیدہ کے ات لک چاو کے ووہ سیدعا حیطان تک پتھارےگا۔ ىہ شرطے اسی لیے ضروری ہےککہ تن کل بہت بڑے
ور نیوں ا خفص وس و بای داوبو کیہ لیے ٭ 7 پیا رکھا ے؛ 00ا ا1ا ابد
- ))۴۴0۱۷۹ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
/0۸ء 5٥۹٥۰۳٥50٥ م] 603۷۱۱۱۹//: :05٦1ا
رت
ان ے جیا تمایت ضرورئی ےک کہ ہہ لوگ مڑے عکار چا میاز ؛ اہر شر میمت
کے بعد اور جیب و ریب طمر یقت کے شمیرے دک اکر اسثیے دام تزوے میں ۱ ہنی ج ہیں, سی گج المقی و کھلوانے می بھی بہت بڑے اساذ ہت ہیں ا کیا ۱ پان حنت مشکل ہ ےکی دککہ دہ ہر رک دردپ دعاد لیت ٹیا یق ء ارگ ری سم ردردیی لولیی سب بپتھ من جا 8یں۔ ْ
اعلحضرت بریلوی قدس سرہ' کی کرامت
۱ سے بیرد چو ںکی پان ایک طر یقہ سے خمایت آسان سے دہ اسر ٢ ےکہ اس سے کچھ لیا جا ےک ہ کیا آپ موڑا شماہ ات رضا خالن صاحب پیک ۱ فٹدرس سر کو ال صیدئي ٭ ٥مھ کے مدوع تن مات اور ا نکی یق عقانعدد مسا لکو شی بت ہیں یان _ اکر وہ انتحضر ت کا ام ارس مر صرور ہ وکر اور ن نکی تیر ید یکا وشو ں کا جال ہو تو بجھن الہ سیا چو مرشد سے ورنہ مین جاک یھو گی اور بر نے و بے کا مار - ارت ناضلل ہلوکی قد سس بی رز کی ای ککرامت ہ ےک ج اور تھوے پیر بہ عوصن اور غمیر مو کی بپعیان کے لیے ا ن کا 22ء سے( ر حم اق تمالا رجثا وا س تی ) (م) وسن معن من ہو شی پرومرشد دی علوم سے واققیت کے سا تد شر گی امو رکا بامند اور حا ب- کل ہے مار بھی دبائی ہے کہ اکٹ پر دمر شد نے دانے علم سے کورے مور فتی وٹٹور سے کھ پور ضے بھی کسی جذر کک او لاد ہت ےکا شرف لے وتی پیر ماں ے۔ خواہ وہ ش ری عم اور مل صا ز ضصرث یکوسول رور
بنعہ الٹاشر گی یت اس ککادایاں مات ہ 822
: ۴ ۴) 6 ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ ۹/۵011 1
0٥ ۳/۰ مہ ٥ط اما ۱۷۱۱۱۱۸ئ٥۵۸//: م٥٦١5
بوشیار وت
اے اجی عجات اخروی ور وین سے شخف رھت وانے بھا !مہ ہبی ہے دچزلا: جال اور بد عل چیرو ںکی یحت چ رگز نکرو کی کہ اڑی میتم نجات دلان ےکی ججائۓ ج نم مس لیا ےکی ال تال مم سب کو صرل کپ چک ق فص عطافرماے ۔کمین۔ ۱
اگے علاوہ اور ھی علامات ہیں سب سے بکی علاصت ہہ ےہ جب بر ؤخداکود کھو تو دا تعالی یا جاۓ جیساکہ عد مث ج!ں ے۔ کو شی مرید کے لئے بھی شا ہیں اس لے میس عدم گناک کی وجہ سے نی کی جار ہے ۔ تخل یھ فق رکی تصزیف_ وت ودت شر تیا۔
واراسی سے ججھمڑا نہیں سے صرف شر بعت اسلاعیہ کے اعد دکیانے عرض سےکہ ہے گل پیراور بد عقیر و چائل مرش کا دامن پگڑنا ہنی مرید ہوا شر ماج ائتز سے اگ سیک کوک مرید ہوگیاے فوووعیعت نود ینا ضرور کی ہے ورن قیاصت یں جماں دوسرے بے چب وگول کا زبوں حوال ہوگا ان کو بھی سا تھ ہی کیاجائگا۔ وماعلینا الا لیلائغ ۔ مدینے کا بھکاری ایق التارری اوالما محمد فیض احمدلکی ضلعی نمبر ۳ بہاولپو_ ۔ پاکستان. ڈ۶ڈزڑڑ444٭4٭
ا 7 ہج مسستات ےت
- ۴۳۴۱۷۱۷۹ ٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ای _ےجوووے__ ے۔ شتین_ ۔'_جہو دی چئچ__ ہت تو
نے صصح ہے ___ _ مح-ہ اس ے_ے۔_ _۔۔
وضو مپصوسسو ہوسنے ہ۔ سے وہ اج
اسد "01 0393
غاب مدرم ہہ بب رر ْ ماف سرت ریم
فیضن احصسد اولپیٰ-
تین نٹ یکن میں مظعا پرنے دالایں |
اصا ن ببان ۶ 2.06
ال پیر۔و۔چاپل ئرر
طُُ
یوین نا لیس ۹
انضوی)
- ۴)۷ ۵۶ ٢٦05://٥8۲٥٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۰۵[ا ۹/۵0101 11
1٦005 ://3٥ ۱۱۱۱۱۹ ما ۱۰۵٥۹5۰5 0٠ء0٥٥
الم دیڈے؛ ۱ ین گے وگال مو دڈیں ہو خوام انا سکےاما نل حفاظطت نکی فکر یس کرت ہیں خی وی امفل نےفرمایاگ سے تق مکرکیاگرد ْ ال لن ائرمجھ ےکو یکلمےلنر
سرزد ہوگیاہوتو اس ےتوبے کر ناسو تے۔
لان ے اڈ لے )کک گی لالہ
۵
۔۸صہ وس
- )٣) 08
٦٦05://٥8۲۰٦۱۷۵۸۱۲۸/۸۰۵۴۵ 5171
ا ...ہے
١
-۔۔ ۔ےحرغع ح+لؤجہپأراستاابعہت -
-س م, ححجح1ح اح جاک ہق ۔ خكھ ےت تہ یے جد سيیچئں ےہ -چھم . ے چ۔ ہے ىہ بب ہے۔ ہوہتے۔---۔ وھ ہے نے
سے . سح حج+ حچسجہۃت ےی ہ__ہ۔ےمے. ہے ۔ عےہ _۔ ۔
ا1٦05 ://603۷۱۱۱۱۹3 ما ا٥۹٥5 ۱٠٥۷۳۸ ۱/
مخ ے۔۔۔ مق مر امن مد اقم اسم ال تر مرک تر
و اسان فیض احمد اویسی ساحب نی, ید و کی ایان افرو تنب کپ ۱
کور تس امہ لس اتھراولیی صاحب لام لیس اتجراو لی ساحب علامہ غین ات او کی صاحب :عطام غیٹل اصھراوڑی صاحب اعلامہ فی اجھراو ری ساب 017 امہ نیش ا راو لن ی صاب. :لام نی اھ اولڑکی صاحب :علامہ لی اتھراو ری صاحب علامہ نی احراو یی صاحب امہ ٹیش اھ او کی صاحب ا ٹیش امھ او کی صاحب عدامہ لی اتھراو کی صاحب ج لام یت اتج اولیکی صاحب
تی ارک ام وی 27 ٢ - کْ 23230 ا ہد را
یویند چنا لیسا: موی ا ماس نان
۲
سد جو جا کی مر مس
مصزفے مصز مصقے : مسنفی مصی میں ہوڑے مصوے : ممیی ممی مصی م+صلقے : مسھے : سے
٣ب نٹرز : 2626300
- ))""۶۷۳۷۸۹ ٦805://8۲۰٦۱۷۵۰۱۲۸/۸۸۰۵۴۵ 0 5171